Subscribe Us


تازہ ترین

Post Top Ad

Wednesday, August 12, 2020

تعمیرات، چھوٹے درجے کی صنعتوں کا فروغ حکومت کی اولین ترجیح ہے.وزیراعظم عمران خان



تعمیرات، چھوٹے درجے کی صنعتوں کا فروغ حکومت کی اولین ترجیح ہے.وزیراعظم عمران خان

حکومتی پالیسیوں کی بدولت معاشی اعشاریوں میں بہتری آئی ہے‘کورونا کی وجہ سے نہ صرف علاقائی بلکہ دنیا بھر کی معیشت متاثر ہوئی.اعلی سطحی اجلاس سے خطاب

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ تعمیرات، چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعتوں کا فروغ حکومت کی اولین ترجیح ہے‘وزیراعظم عمران خان کی زیرِ صدارت تعمیرات کے شعبے سے متعلق جائزہ اجلاس ہوا جس میں وزیر صنعت و پیداوار حماد اظہر، وزیربحری امور علی زیدی اور وزیرِ ریلوے شیخ رشید شریک ہوئے.
اس کے علاوہ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے اطلاعات عاصم سلیم باجوہ اور چیئرمین نیا پاکستان ہاﺅسنگ اتھارٹی بھی اجلاس میں موجود تھے اجلاس میں بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ حکومتی پالیسیوں کی بدولت معاشی اعشاریوں میں بہتری آئی ہے اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ کورونا کی وجہ سے نہ صرف علاقائی بلکہ دنیا بھر کی معیشت متاثر ہوئی.اجلاس کے دوران بتایا گیا کہ بہتر حکمت عملی کی بدولت کورونا کے نقصانات کو ممکنہ حد تک روکا گیا، کورونا میں کمی آنے کے بعد ملک میں معاشی سرگرمیاں زور پکڑ رہی ہیں اس موقع پر وزیرِ اعظم نے کاروباری برادری کی جانب سے بھرپور اعتماد پر اطمینان کا اظہار کیا وزیراعظم نے کہا کہ تعمیرات، چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعتوں کا فروغ حکومت کی اولین ترجیح ہے.انہوں نے کہا کہ ان دونوں شعبوں سے معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا اور نوجوانوں کے لیے نوکریوں کے مواقع پیدا ہوں گے ‘وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کاروباری برادری کی سہولت کاری کے لیے کوشش جاری رکھے گی.
قبل ازیں وزیراعظم کی زیرصدارت مہنگائی کے حوالے سے بھی اجلاس ہوا اجلاس کے حوالے سے پریس کانفرنس کے دوران وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات شبلی فراز نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے ملک میں آٹے کی یکساں قیمت کے تعین کا طریقہ کار مرتب کرنے کی ہدایت کردی ہے‘شبلی فراز نے کہا کہ وزیراعظم نے ہمیشہ غریبوں کے بارے میں سوچا جبکہ ماضی میں صرف اشرافیہ کو فائدہ پہنچایا گیا تھا.
شبلی فراز نے کہا کہ اس وقت ہماری حکومت کو مہنگائی کا چیلنج درپیش ہے، وزیراعظم ہر ہفتے پرائس کنٹرول کمیٹی کا اجلاس منعقد کرتے ہیں جس میں تمام صوبوں کے چیف سیکرٹریوں اور متعلقہ افسران شریک ہوتے ہیں‘انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی زیرصدارت آج مہنگائی سے متعلق جائزہ اجلاس ہوا جس میں ملک میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں سے متعلق بریفنگ دی گئی.
وفاقی وزیر نے کہا کہ اشیا کی قیمتوں میں کمی تو آئی ہے لیکن یہ کمی وزیراعظم کے ہدف پر پورا نہیں اترتی، آٹے اور چینی کی قیمتوں میں کمی انتہائی ضروری ہے کیونکہ یہ انتہائی مرغوب غذا ہے شبلی فراز نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں 20 کلو کے آٹے کے تھیلے کی قیمت 900 سے ساڑھے 11 سو روپے کے درمیان ہے جبکہ پنجاب میں 20 کلو کے آٹے کے تھیلے کی قیمت 860 روپے ہے جبکہ کچھ جگہ پر آٹا 900 سے ساڑھے 9 روپے بھی مل رہا ہے.
انہوں نے کہا کہ سندھ میں آٹے کے 20 کلو کے تھیلے کی قیمت 11 سو سے 12 سو بتائی جارہی تھی لیکن کراچی کے اعداد و شمار کے مطابق کراچی میں آٹے کے 20 کلو کے تھیلے کی قیمت 14 سے 16 سو کے درمیان ہے جبکہ کچھ جگہوں پر یہ قیمت 17 روپے بھی ہے‘وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت سندھ گندم ریلیز نہیں کررہی جس کی وجہ سے قیمتوں کے تعین میں مسائل پیدا ہوتے ہیں اور کہا کہ مثال کے طور پر پنجاب جو سب سے زیادہ آٹا فروخت کررہا ہے تو اگر ملک میں کہیں قیمتوں میں فرق ہوگا تو ان کا بہاﺅ اس طرف ہوگا چاہے وہ خیبرپختونخوا ہو یا سندھ ہو.
انہوں نے کہا کہ رحیم یار خان اور کچھ دیگر شہروں میں 12، 12 ملز ہیں جو ان کی طلب سے کئی گنا زیادہ ہے اور قیمتوں میں زیادہ فرق سے خدشہ ہے کہ پنجاب کی مارکیٹ سے سامان اٹھا کر وہاں فروخت کیا جاتا ہے جہاں قیمت بہت زیادہ ہے جس سے پھر بہت زیادہ منافع بھی کمایا جارہا ہے. وفاقی وزیر نے کہا کہ قیمتوں میں 19، 20 کا فرق تو قابل قبول ہے لیکن اتنے بڑے فرق کو ختم کرنے کے لیے ہم چاہتے ہیں کہ ایسا طریقہ کار اختیار کیا جائے جس سے تمام صوبوں میں آٹے کی قیمتیں یکساں ہوں شبلی فراز نے کہا کہ وزیراعظم نے مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، علیم خان اور متعلقہ سیکرٹریوں برائے خوراک کو قیمتوں میں فرق کے خاتمے کا میکانزم تیار کرنے کی ہدایت کی ہے اور اس حوالے سے لیے جانے والے ٹھوس اقدامات سے ایک سے 2 روز میں آگاہ کیا جائے گا.
وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت اور وزیراعظم عمران خان مسلسل اس چیز کو دیکھ رہے ہیں اور کم وقت میں کچھ بھی ہوجائے ان قیمتوں کو ہم نے کم کرنا ہے‘ 
وفاقی وزیر نے کہا کہ ہمارا خدشہ ہے کہ یہ بحران پیدا کیا جارہا ہے، مجھے نہیں معلوم اس میں شوگر ملز یا شوگر کے تقسیم کار شامل ہیں یا نہیں کیونکہ وہ صرف 23 کے قریب ہیں چینی کی درآمد سے متعلق انہوں نے کہا کہ یہ حکومت کا کام ہے کہ وہ چینی درآمد کرکے بھی سستی دے اور عالمی سطح پر آٹے اور چینی کی قیمتیں پہلی مرتبہ بڑھی ہیں ورنہ ہمیشہ کم ہی ہوتی ہیں انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کا کام اس مافیا کی کمر توڑنا ہے جس نے ذخیرہ اندوزی کی ہے اور قیمتوں کو بڑھاتے ہیں اور حکومت کا مقصد عوام کو سستی چینی اور آٹا فراہم کرنا ہے.

 

No comments:

Post a Comment

Please donot comment any scam or falk accounts or comment

Post Top Ad

مینیو